Skip to main content

لُوقا 3-8:1


تھوڑے عرصہ کے بعد یُوں ہُؤا کہ وہ مُنادی کرتا اور خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری سُناتا ہُؤا شہر شہر اور گاؤں گاؤں پِھرنے لگا اور وہ بارہ اُس کے ساتھ تھے۔ اور بعض عَورتیں جِنہوں نے بُری رُوحوں اور بِیمارِیوں سے شِفا پائی تھی یعنی مریمؔ جو مگدلینی کہلاتی تھی جِس میں سے سات بدرُوحیں نِکلی تِھیں۔ اور یُوأنہ ہیرودؔیس کے دِیوان خُوزؔہ کی بِیوی اور سُوسنّاؔہ اور بُہتیری اَور عَورتیں بھی تِھیں جو اپنے مال سے اُن کی خِدمت کرتی تِھیں۔

لُوقا 3-8:1

خیال، سیاق

یِسُوع کے ساتھ ساتھ رہنے والی عَورتیں
1تھوڑے عرصہ کے بعد یُوں ہُؤا کہ وہ مُنادی کرتا اور خُدا کی بادشاہی کی خُوشخبری سُناتا ہُؤا شہر شہر اور گاؤں گاؤں پِھرنے لگا اور وہ بارہ اُس کے ساتھ تھے۔ 2اور بعض عَورتیں جِنہوں نے بُری رُوحوں اور بِیمارِیوں سے شِفا پائی تھی یعنی مریمؔ جو مگدلینی کہلاتی تھی جِس میں سے سات بدرُوحیں نِکلی تِھیں۔ 3اور یُوأنہ ہیرودؔیس کے دِیوان خُوزؔہ کی بِیوی اور سُوسنّاؔہ اور بُہتیری اَور عَورتیں بھی تِھیں جو اپنے مال سے اُن کی خِدمت کرتی تِھیں۔
بِیج بونے والے کی تمثِیل
(متّی ۱۳‏:۱‏-۹؛ مرقس ۴‏:۱‏-۹)
4پِھر جب بڑی بِھیڑ جمع ہُوئی اور ہر شہر کے لوگ اُس کے پاس چلے آتے تھے اُس نے تمثِیل میں کہا کہ
5ایک بونے والا اپنا بِیج بونے نِکلا اور بوتے وقت کُچھ راہ کے کنارے گِرا اور رَوندا گیا اور ہوا کے پرِندوں نے اُسے چُگ لِیا۔ 6اور کُچھ چٹان پر گِرا اور اُگ کر سُوکھ گیا اِس لِئے کہ اُس کو تَری نہ پُہنچی۔ 7اور کُچھ جھاڑِیوں میں گِرا اور جھاڑِیوں نے ساتھ ساتھ بڑھ کر اُسے دبا لِیا۔ 8اور کُچھ اچھّی زمِین میں گِرا اور اُگ کر سَو گُنا پَھل لایا۔
یہ کہہ کر اُس نے پُکارا۔ جِس کے سُننے کے کان ہوں وہ سُن لے!
تمثیِلوں کا مقصد
(متّی ۱۳‏:۱۰‏-۱۷؛ مرقس ۴‏:۱۰‏-۱۲)
9اُس کے شاگِردوں نے اُس سے پُوچھا کہ یہ تمثِیل کیا ہے؟ 10اُس نے کہا تُم کو خُدا کی بادشاہی کے بھیدوں کی سمجھ دی گئی ہے مگر اَوروں کو تمثِیلوں میں سُنایا جاتا ہے تاکہ دیکھتے ہُوئے نہ دیکھیں اور سُنتے ہُوئے نہ سمجھیں۔
یِسُوع بِیج بونے والے کی تمثِیل سمجھاتا ہے
(متّی ۱۳‏:۱۸‏-۲۳؛ مرقس ۴‏:۱۳‏-۲۰)
11وہ تمثِیل یہ ہے کہ بِیج خُدا کا کلام ہے۔ 12راہ کے کنارے کے وہ ہیں جِنہوں نے سُنا۔ پِھر اِبلِیس آ کر کلام کو اُن کے دِل سے چِھین لے جاتا ہے۔ اَیسا نہ ہو کہ اِیمان لا کر نجات پائیں۔ 13اور چٹان پر کے وہ ہیں جو سُن کر کلام کو خُوشی سے قبُول کر لیتے ہیں لیکن جڑ نہیں رکھتے مگر کُچھ عرصہ تک اِیمان رکھ کر آزمایش کے وقت پِھر جاتے ہیں۔ 14اور جو جھاڑِیوں میں پڑا اُس سے وہ لوگ مُراد ہیں جِنہوں نے سُنا لیکن ہوتے ہوتے اِس زِندگی کی فِکروں اور دَولت اور عَیش و عِشرت میں پھنس جاتے ہیں اور اُن کا پَھل پَکتا نہیں۔ 15مگر اچھّی زمِین کے وہ ہیں جو کلام کو سُن کر عُمدہ اور نیک دِل میں سنبھالے رہتے اور صبر سے پَھل لاتے ہیں۔
چراغ برتن کے نِیچے
(مرقس ۴‏:۲۱‏-۲۵)
16کوئی شخص چراغ جلا کر برتن سے نہیں چِھپاتا نہ پلنگ کے نِیچے رکھتا ہے بلکہ چراغ دان پر رکھتا ہے تاکہ اندر آنے والوں کو رَوشنی دِکھائی دے۔
17کیونکہ کوئی چِیز چُھپی نہیں جو ظاہِر نہ ہو جائے گی اور نہ کوئی اَیسی پوشِیدہ بات ہے جو معلُوم نہ ہو گی اور ظہُور میں نہ آئے گی۔
18پس خبردار رہو کہ تُم کِس طرح سُنتے ہو کیونکہ جِس کے پاس ہے اُسے دِیا جائے گا اور جِس کے پاس نہیں ہے اُس سے وہ بھی لے لِیا جائے گا جو اپنا سمجھتا ہے۔
یِسُوع کی ماں اور بھائی
(متّی ۱۲‏:۴۶‏-۵۰؛ مرقس ۳‏:۳۱‏-۳۵)
19پِھر اُس کی ماں اور اُس کے بھائی اُس کے پاس آئے مگر بِھیڑ کے سبب سے اُس تک پہنچ نہ سکے۔ 20اور اُسے خبر دی گئی کہ تیری ماں اور تیرے بھائی باہر کھڑے ہیں اور تُجھ سے مِلنا چاہتے ہیں۔
21اُس نے جواب میں اُن سے کہا کہ میری ماں اور میرے بھائی تو یہ ہیں جو خُدا کا کلام سُنتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں۔
یِسُوع طُوفان کو تھما دیتا ہے
(متّی ۸‏:۲۳‏-۲۷؛ مرقس ۴‏:۳۵‏-۴۱)
22پِھر ایک دِن اَیسا ہُؤا کہ وہ اور اُس کے شاگِرد کشتی میں سوار ہُوئے اور اُس نے اُن سے کہا آؤ جِھیل کے پار چلیں۔ پس وہ روانہ ہُوئے۔ 23مگر جب کشتی چلی جاتی تھی تو وہ سو گیا اور جِھیل پر بڑی آندھی آئی اور کشتی پانی سے بھری جاتی تھی اور وہ خطرہ میں تھے۔ 24اُنہوں نے پاس آ کر اُسے جگایا اور کہا کہ صاحِب صاحِب ہم ہلاک ہُوئے جاتے ہیں!
اُس نے اُٹھ کر ہوا کو اور پانی کے زور شور کو جِھڑکا اور دونوں تھم گئے اور امن ہو گیا۔ 25اُس نے اُن سے کہا تُمہارا اِیمان کہاں گیا؟
وہ ڈر گئے اور تعجُّب کر کے آپس میں کہنے لگے کہ یہ کَون ہے؟ یہ تو ہوا اور پانی کو حُکم دیتا ہے اور وہ اُس کی مانتے ہیں۔
یِسُوع ایک بدرُوح گرفتہ آدمی کو شِفا دیتا ہے
(متّی ۸‏:۲۸‏-۳۴؛ مرقس ۵‏:۱‏-۲۰)
26پِھر وہ گراسینیوؔں کے عِلاقہ میں جا پہنچے جو اُس پار گلِیل کے سامنے ہے۔ 27جب وہ کنارے پر اُترا تو اُس شہر کا ایک مَرد اُسے مِلا جِس میں بدرُوحیں تِھیں اور اُس نے بڑی مُدّت سے کپڑے نہ پہنے تھے اور وہ گھر میں نہیں بلکہ قبروں میں رہا کرتا تھا۔ 28وہ یِسُوعؔ کو دیکھ کر چِلّایا اور اُس کے آگے گِر کر بُلند آواز سے کہنے لگا اَے یِسُوعؔ! خُدا تعالےٰ کے بیٹے۔ مُجھے تُجھ سے کیا کام؟ تیری مِنّت کرتا ہُوں کہ مُجھے عذاب میں نہ ڈال۔ 29کیونکہ وہ اُس ناپاک رُوح کو حُکم دیتا تھا کہ اِس آدمی میں سے نِکل جا۔ اِس لِئے کہ اُس نے اُس کو اکثر پکڑا تھا اور ہر چند لوگ اُسے زنجِیروں اور بیڑیوں سے جکڑ کر قابُو میں رکھتے تھے تَو بھی وہ زنجِیروں کو توڑ ڈالتا تھا اور بدرُوح اُس کو بیابانوں میں بھگائے پِھرتی تھی۔
30یِسُوعؔ نے اُس سے پُوچھا تیرا کیا نام ہے؟
اُس نے کہا لشکر کیونکہ اُس میں بُہت سی بدرُوحیں تِھیں۔ 31اور وہ اُس کی مِنّت کرنے لگیں کہ ہمیں اتھاہ گڑھے میں جانے کا حُکم نہ دے۔
32وہاں پہاڑ پر سُؤروں کا ایک بڑا غول چر رہا تھا۔ اُنہوں نے اُس کی مِنّت کی کہ ہمیں اُن کے اندر جانے دے۔ اُس نے اُنہیں جانے دِیا۔ 33اور بدرُوحیں اُس آدمی میں سے نِکل کر سُؤروں کے اندر گئِیں اور غول کڑاڑے پر سے جھپٹ کر جِھیل میں جا پڑا اور ڈُوب مَرا۔
34یہ ماجرا دیکھ کر چرانے والے بھاگے اور جا کر شہر اور دیہات میں خبر دی۔ 35لوگ اُس ماجرے کے دیکھنے کو نِکلے اور یِسُوعؔ کے پاس آ کر اُس آدمی کو جِس میں سے بدرُوحیں نِکلی تِھیں کپڑے پہنے اور ہوش میں یِسُوعؔ کے پاؤں کے پاس بَیٹھے پایا اور ڈر گئے۔ 36اور دیکھنے والوں نے اُن کو خبر دی کہ جِس میں بدرُوحیں تِھیں وہ کِس طرح اچھّا ہُؤا۔ 37اور گراسینیوں کے گِرد و نواح کے سب لوگوں نے اُس سے درخواست کی کہ ہمارے پاس سے چلا جا کیونکہ اُن پر بڑی دہشت چھا گئی تھی۔ پس وہ کشتی میں بَیٹھ کر واپس گیا۔ 38لیکن جِس شخص میں سے بدرُوحیں نِکل گئی تِھیں وہ اُس کی مِنّت کر کے کہنے لگا کہ مُجھے اپنے ساتھ رہنے دے
مگر یِسُوعؔ نے اُسے رُخصت کر کے کہا۔ 39اپنے گھر کو لَوٹ کر لوگوں سے بیان کر کہ خُدا نے تیرے لِئے کَیسے بڑے کام کِئے۔
وہ روانہ ہو کر تمام شہر میں چرچا کرنے لگا کہ یِسُوعؔ نے میرے لِئے کَیسے بڑے کام کِئے۔
یائِیر کی بیٹی اور یِسُوع کی پوشاک کو چُھونے والی عَورت
(متّی ۹‏:۱۸‏-۲۶؛ مرقس ۵‏:۲۱‏-۴۳)
40جب یِسُوعؔ واپس آ رہا تھا تو لوگ اُس سے خُوشی کے ساتھ مِلے کیونکہ سب اُس کی راہ تکتے تھے۔ 41اور دیکھو یائِیر نام ایک شخص جو عِبادت خانہ کا سردار تھا آیا اور یِسُوعؔ کے قدموں پر گِر کر اُس سے مِنّت کی کہ میرے گھر چل۔ 42کیونکہ اُس کی اِکلَوتی بیٹی جو قرِیباً بارہ برس کی تھی مَرنے کو تھی
اور جب وہ جا رہا تھا تو لوگ اُس پر گِرے پڑتے تھے۔ 43اور ایک عَورت نے جِس کے بارہ برس سے خُون جاری تھا اور اپنا سارا مال حکِیموں پر خرچ کر چُکی تھی اور کِسی کے ہاتھ سے اچھّی نہ ہو سکی تھی۔ 44اُس کے پِیچھے آ کر اُس کی پوشاک کا کنارہ چُھؤا اور اُسی دَم اُس کا خُون بہنا بند ہو گیا۔ 45اِس پر یِسُوعؔ نے کہا وہ کون ہے جِس نے مُجھے چُھؤا؟
جب سب اِنکار کرنے لگے تو پطرؔس اور اُس کے ساتِھیوں نے کہا کہ اَے صاحِب لوگ تُجھے دباتے اور تُجھ پر گِرے پڑتے ہیں۔
46مگر یِسُوعؔ نے کہا کہ کِسی نے مُجھے چُھؤا تو ہے کیونکہ مَیں نے معلُوم کِیا کہ قُوّت مُجھ سے نِکلی ہے۔ 47جب اُس عَورت نے دیکھا کہ مَیں چُھپ نہیں سکتی تو کانپتی ہُوئی آئی اور اُس کے آگے گِر کر سب لوگوں کے سامنے بیان کِیا کہ مَیں نے کِس سبب سے تُجھے چُھؤا اور کِس طرح اُسی دَم شِفا پا گئی۔ 48اُس نے اُس سے کہا بیٹی! تیرے اِیمان نے تُجھے اچھّا کِیا ہے۔ سلامت چلی جا۔
49وہ یہ کہہ ہی رہا تھا کہ عِبادت خانہ کے سردار کے ہاں سے کِسی نے آ کر کہا کہ تیری بیٹی مَر گئی۔ اُستاد کو تکلِیف نہ دے۔
50یِسُوعؔ نے سُن کر اُسے جواب دِیا کہ خَوف نہ کر فقط اِعتقاد رکھ۔ وہ بچ جائے گی۔
51اور گھر میں پہنچ کر پطرؔس اور یُوحنّا اور یعقُوب اور لڑکی کے ماں باپ کے سِوا کِسی کو اپنے ساتھ اندر نہ جانے دِیا۔ 52اور سب اُس کے لِئے رو پِیٹ رہے تھے مگر اُس نے کہا۔ ماتم نہ کرو۔ وہ مَر نہیں گئی بلکہ سوتی ہے۔
53وہ اُس پر ہنسنے لگے کیونکہ جانتے تھے کہ وہ مَر گئی ہے۔ 54مگر اُس نے اُس کا ہاتھ پکڑا اور پُکار کر کہا اَے لڑکی اُٹھ۔ 55اُس کی رُوح پِھر آئی اور وہ اُسی دَم اُٹھی۔ پِھر یِسُوعؔ نے حُکم دِیا کہ لڑکی کو کُچھ کھانے کو دِیا جائے۔ 56اُس کے ماں باپ حَیران ہُوئے اور اُس نے اُنہیں تاکِید کی کہ یہ ماجرا کِسی سے نہ کہنا۔


Scriptures are from Revised Urdu Holy Bible © Pakistan Bible Society, 1970, 2010.
Luke 8:1-3


female - leader - woman